زخم باطن

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - روحانی تکلیف، اندرونی زخم، اندر کی تکلیف۔ "غرض کسی طرح میں نے درد دل کی دوا نہ پائی زخم باطن کا مرہم نہ دیکھا۔"      ( ١٨٠٢ء، خرد افروز، ١٧ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'زخم' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگا کر عربی اسم 'باطن' لگانے سے مرکب اضافی 'زخم باطن' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٢ء کو "خرد افروز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - روحانی تکلیف، اندرونی زخم، اندر کی تکلیف۔ "غرض کسی طرح میں نے درد دل کی دوا نہ پائی زخم باطن کا مرہم نہ دیکھا۔"      ( ١٨٠٢ء، خرد افروز، ١٧ )

جنس: مذکر